📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل (كتاب النكاح) 🏷️ باب: باب: غلام کی آزاد عورت سے شادی کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 3225 Sunan an-Nasa'i 3225
کتاب #30: کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
8: بَابُ : تَزَوُّجِ الْمَوْلَى الْعَرَبِيَّةَ
باب: غلام کی آزاد عورت سے شادی کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ رَاشِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، " أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَبَنَّى سَالِمًا وَأَنْكَحَهُ ابْنَةَ أَخِيهِ هِنْدَ بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ وَهُوَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ ابْنَهُ فَوَرِثَ مِنْ مِيرَاثِهِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ: ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ سورة الأحزاب آية 5 , فَمَنْ لَمْ يُعْلَمْ لَهُ أَبٌ كَانَ مَوْلًى وَأَخًا فِي الدِّينِ" , مُخْتَصَرٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس ان صحابہ میں سے تھے جو جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے ۔ انہوں نے ایک انصاری عورت کے غلام سالم کو اپنا بیٹا بنا لیا ، اور ان کی شادی اپنی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس سے کر دی ۔ جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو اپنا منہ بولا بیٹا قرار دے لیا تھا ، اور زمانہ جاہلیت کا یہ دستور تھا کہ متبنی کرنے والے کو اس لڑکے کا باپ کہا کرتے تھے اور وہ لڑکا اس کی میراث پاتا تھا اور یہ دستور اس وقت تک چلتا رہا جب تک اللہ پاک نے یہ آیت : «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند اللہ فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم‏» ” لے پالکوں کو ان کے ( حقیقی ) باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ ، اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی ہے ، پھر اگر تمہیں ان کے حقیقی باپوں کا علم ہی نہ ہو تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں “ ( الاحزاب : ۵ ) نازل نہ کی ، پس جس کا باپ معلوم نہ ہو وہ دینی بھائی اور دوست ہے ، ( یہ حدیث ) مختصر ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3225]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/النکاح 15 (5088)، (تحفة الأشراف: 16467)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/النکاح 10 (2061)، موطا امام مالک/الرضاع 2 (12)، مسند احمد (6/201، 271)، سنن الدارمی/النکاح 52 (2303) (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #3225
3223 3224 3225 3226 3227

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#3224 أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَن...
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ مروان کے دور حکومت میں ایک نوجوان شخص عبداللہ بن عمرو بن ...
#3226 أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، قَالَ: ...
امہات المؤمنین عائشہ اور ام سلمہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ