سنن النسائي حدیث نمبر: 3203
Sunan an-Nasa'i 3203
کتاب #30: کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
2: بَابُ : مَا افْتَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَحَرَّمَهُ عَلَى خَلْقِهِ لِيَزِيدَهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قُرْبَةً إِلَيْهِ
باب: اس چیز کا بیان جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے اپنی قربت دکھانے کے لیے حلال رکھا اور اپنی مخلوق کے لیے حرام کر دیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهَا حِينَ أَمَرَهُ اللَّهُ أَنْ يُخَيِّرَ أَزْوَاجَهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَبَدَأَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا، فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تُعَجِّلِي، حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ، قَالَتْ: وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ سورة الأحزاب آية 28 , فَقُلْتُ: فِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اس وقت تشریف لائے جب اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ آپ اپنی ازواج کو ( دو بات میں سے ایک کو اپنا لینے کا ) اختیار دیں ۔ اس کی ابتداء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سب سے پہلے ) میرے پاس آ کر کی ۔ آپ نے فرمایا : ” میں تم سے ایک بات کا ذکر کرتا ہوں لیکن جب تک تم اپنے والدین سے مشورہ نہ کر لو جواب دینے میں جلدی نہ کرنا “ ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : حالانکہ آپ کو معلوم تھا کہ میرے والدین آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدگی اختیار کر لینے کا مشورہ اور حکم ( کبھی بھی ) نہ دیں گے ۔ پھر آپ نے فرمایا : ( یعنی یہ آیت پڑھی ) «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها فتعالين أمتعكن» ” اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیاوی زندگی ، دنیاوی زیب و زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دے دلا دوں ، اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں “ ( الاحزاب : ۲۸ ) میں نے کہا : اس سلسلہ میں اپنے والدین سے مشورہ کروں ؟ ( مجھے کسی مشورہ کی ضرورت نہیں ) کیونکہ میں اللہ کو ، اس کے رسول کو اور آخرت کے گھر ( جنت ) کو چاہتی ہوں ( یہی میرا فیصلہ ہے ) ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3203]
💡 وضاحت:
۱؎: مگر کسی نے آپ سے علیحدگی قبول نہ کی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/تفسیرالأحزاب 4 (4785)، 5 (4786) تعلیقًا، صحیح مسلم/الطلاق 4 (1475)، سنن الترمذی/تفسیرالأحزاب (3204)، (تحفة الأشراف: 17767)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطلاق 20 (2053)، مسند احمد (6/78، 103، 152، 211)، سنن الدارمی/الطلاق 5 (2274)، ویأتی عند المؤلف فی الطلاق 26 (برقم3469) (صحیح)