سنن النسائي حدیث نمبر: 3075
Sunan an-Nasa'i 3075
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
226: بَابُ : الْمَكَانِ الَّذِي تُرْمَى مِنْهُ جَمْرَةُ الْعَقَبَةِ
باب: جمرہ عقبہ کی رمی کہاں سے کی جائے؟
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ يَقُولُ: " لَا تَقُولُوا: سُورَةَ الْبَقَرَةِ قُولُوا: السُّورَةَ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا الْبَقَرَةُ" فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ حِينَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، فَاسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ وَاسْتَعْرَضَهَا يَعْنِي الْجَمْرَةَ، فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ وَكَبَّرَ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، فَقُلْتُ: إِنَّ أُنَاسًا يَصْعَدُونَ الْجَبَلَ، فَقَالَ: " هَا هُنَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ رَأَيْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ رَمَى".
اعمش کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو کہتے سنا کہ ” سورۃ البقرہ “ نہ کہو ، بلکہ کہو ” وہ سورۃ جس میں بقرہ کا ذکر کیا گیا ہے “ میں نے اس بات کا ذکر ابراہیم سے کیا ، تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن یزید نے بیان کیا ہے کہ وہ عبداللہ ( عبداللہ بن مسعود ) کے ساتھ تھے جس وقت انہوں نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں ، وہ وادی کے اندر آئے ، اور جمرہ کو اپنے نشانہ پر لیا ، اور سات کنکریاں ماریں ، اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہی ، تو میں نے کہا : بعض لوگ ( کنکریاں مارنے کے لیے ) پہاڑ پر چڑھتے ہیں ۔ تو انہوں نے کہا : قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ، یہی جگہ ہے جہاں سے میں نے اس شخص کو جس پر سورۃ البقرہ نازل ہوئی کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3075]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سورۃ البقرہ کہنا درست ہے اور حجاج کا خیال صحیح نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 3072 (صحیح)