سنن النسائي حدیث نمبر: 3053
Sunan an-Nasa'i 3053
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
214: بَابُ : الرُّخْصَةِ لِلضَّعَفَةِ أَنْ يُصَلُّوا يَوْمَ النَّحْرِ الصُّبْحَ بِمِنًى
باب: کمزور اور ضعیف لوگوں کو قربانی کے دن نماز فجر منیٰ میں پڑھنے کی رخصت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ مَوْلًى لِأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: " جِئْتُ مَعَ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ مِنًى بِغَلَسٍ، فَقُلْتُ لَهَا: لَقَدْ جِئْنَا مِنًى بِغَلَسٍ، فَقَالَتْ: قَدْ كُنَّا نَصْنَعُ هَذَا مَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ".
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہما کے ایک غلام کہتے ہیں کہ میں اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے ساتھ اخیر رات کے اندھیرے میں منیٰ آیا ۔ میں نے ان سے کہا : ہم رات کی تاریکی ہی میں منیٰ آ گئے ( حالانکہ دن میں آنا چاہیئے ) ، تو انہوں نے کہا : ہم اس ذات کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے ( یعنی غلس میں آتے تھے ) جو تم سے بہتر تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3053]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الحج 66 (1943)، (تحفة الأشراف: 15737)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 98 (1679)، صحیح مسلم/الحج 49 (1291)، موطا امام مالک/الحج 56 (172) (وعندہ ’’مولاة لأسمائ‘‘) مسند احمد (6/347، 351) (صحیح)