سنن النسائي حدیث نمبر: 3005
Sunan an-Nasa'i 3005
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
194: بَابُ : مَا ذُكِرَ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ
باب: یوم عرفہ کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَالَ يَهُودِيٌّ لِعُمَرَ: لَوْ عَلَيْنَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَاتَّخَذْنَاهُ عِيدًا: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ سورة المائدة آية 3 , قَالَ عُمَرُ: " قَدْ عَلِمْتُ الْيَوْمَ الَّذِي أُنْزِلَتْ فِيهِ وَاللَّيْلَةَ الَّتِي أُنْزِلَتْ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ".
طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا : اگر یہ آیت : «اليوم أكملت لكم دينكم» ہمارے یہاں اتری ہوتی تو جس دن یہ اتری اس دن کو ہم عید ( تہوار ) کا دن بنا لیتے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے معلوم ہے کہ یہ آیت کس دن اتری ہے ، جس رات ۱؎ یہ آیت نازل ہوئی وہ جمعہ کی رات تھی ، اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات میں تھے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3005]
💡 وضاحت:
۱؎: شاید اس سے مراد سنیچر کی رات ہے جمعہ کی طرف اس کی نسبت اس وجہ سے کر دی گئی ہے کہ وہ جمعہ سے متصل تھی، مطلب یہ ہے کہ جمعہ کے دن شام کو نازل ہوئی اس طرح اللہ تعالیٰ نے دو عیدیں اس میں ہمارے لیے جمع کر دیں ایک جمعہ کی عید دوسری عرفہ کی عید۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الإیمان 33 (45)، المغازي 77 (4407)، تفسیرالمائدة2 (4606)، الاعتصمام 1 (7268)، صحیح مسلم/التفسیر (3017)، سنن الترمذی/تفسیرالمائدة (3043)، (تحفة الأشراف: 10468)، مسند احمد 1/28، 39 ویأتی عند المؤلف برقم: 5015 (صحیح)