سنن النسائي حدیث نمبر: 2970
Sunan an-Nasa'i 2970
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
168: بَابُ : ذِكْرِ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ
باب: صفا و مروہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَائِشَةَ: فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 , قُلْتُ: مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَطُوفَ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتْ: بِئْسَمَا قُلْتَ: " إِنَّمَا كَانَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَطُوفُونَ بَيْنَهُمَا، فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ وَنَزَلَ الْقُرْآنُ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 , فَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَطُفْنَا مَعَهُ، فَكَانَتْ سُنَّةً".
عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے آیت کریمہ : «فلا جناح عليه أن يطوف بهما» پڑھی اور کہا : میں صفا و مروہ کے درمیان نہ پھروں ، تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ۱؎ ، تو انہوں نے کہا : تم نے کتنی بری بات کہی ہے ( صحیح یہ ہے ) کہ لوگ ایام جاہلیت میں صفا و مروہ کے درمیان طواف نہیں کرتے تھے ( بلکہ اسے گناہ سمجھتے تھے ) تو جب اسلام آیا ، اور قرآن اترا ، اور یہ آیت «فلا جناح عليه أن يطوف بهما» اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعی کی ، اور آپ کے ساتھ ہم نے بھی کی ، تو یہی سنت ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2970]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے: «فلا جناح عليه أن يطوف بهما» ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحج 79 (1643)، العمرة10 (1790)، تفسیرالبقرة 21 (4495)، تفسیرالنجم 3 (4861) مختصراً، صحیح مسلم/الحج (1277)، سنن الترمذی/تفسیرالبقرة (2965)، (تحفة الأشراف: 16438)، موطا امام مالک/الحج 42 (129)، مسند احمد (3/144، 162، 227) (صحیح)