سنن النسائي حدیث نمبر: 2965
Sunan an-Nasa'i 2965
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
163: بَابُ : الْقَوْلِ بَعْدَ رَكْعَتَىِ الطَّوَافِ
باب: طواف کی دو رکعت پڑھنے کے بعد کیا کہے؟
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ سَبْعًا: رَمَلَ ثَلَاثًا، وَمَشَى أَرْبَعًا، ثُمَّ قَرَأَ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 , فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ، وَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ، ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ: " إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَابْدَءُوا بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ".
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف میں کعبہ کے سات پھیرے لگائے ، تین پھیروں میں رمل کیا اور چار پھیروں میں عام چال چلے ، پھر آیت کریمہ : «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» پڑھی اس کے بعد مقام ابراہیم کو اپنے اور خانہ کعبہ کے درمیان کر کے دو رکعت نماز پڑھی ۔ پھر آپ نے حجر اسود کا استلام کیا پھر نکلے اور آیت کریمہ : «إن الصفا والمروة من شعائر اللہ» ” صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں “ پڑھی تو جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ، اسی سے تم بھی شروع کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2965]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)