سنن النسائي حدیث نمبر: 2962
Sunan an-Nasa'i 2962
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
162: بَابُ : أَيْنَ يُصَلِّي رَكْعَتَىِ الطَّوَافِ
باب: طواف کی دونوں رکعتیں کہاں پڑھے؟
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ سُبُعِهِ جَاءَ حَاشِيَةَ الْمَطَافِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطَّوَّافِينَ أَحَد".
مطلب بن ابی وداعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جس وقت آپ طواف کے اپنے سات پھیروں سے فارغ ہوئے ، تو مطاف کے کنارے آئے ، اور آپ نے دو رکعت نماز پڑھی ، اور آپ کے اور طواف کرنے والوں کے درمیان کسی طرح کی آڑ نہ تھی ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2962]
💡 وضاحت:
۱؎: دیکھئیے حاشیہ حدیث رقم ۷۵۹۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (759) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 343
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 759 (ضعیف) (اس کے راوی ”کثیر بن المطلب“ لین الحدیث ہیں، اس لیے ان کے بیٹے ”کثیر بن کثیر‘‘ اپنے باپ کو حذف کر کے کبھی ’’عن بعض أھلہ‘‘ اور کبھی ”عمن سمع جدہ“ کہا کرتے تھے)