سنن النسائي حدیث نمبر: 2959
Sunan an-Nasa'i 2959
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
161: بَابُ : قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ }
باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ”مسجد میں ہر حاضری کے وقت اپنا لباس پہن لیا کرو“۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُسْلِمًا الْبَطِينَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَهِيَ عُرْيَانَةٌ، تَقُولُ: الْيَوْمَ يَبْدُو بَعْضُهُ أَوْ كُلُّهُ وَمَا بَدَا مِنْهُ فَلَا أُحِلُّهُ، قَالَ: فَنَزَلَتْ يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ سورة الأعراف آية 31".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ( ایام جاہلیت میں ) عورت یہ شعر پڑھتے ہوئے خانہ کعبہ کا طواف ننگی ہو کر کرتی تھی ۔ «اليوم يبدو بعضه أو كله وما بدا منه فلا أحله» ” آج کے دن جسم کا کل یا کچھ حصہ ظاہر ہو رہا ہے اور جو کچھ بھی ظاہر ہو رہا ہے میں اس کو مباح نہیں کر سکتی “ ( کہ لوگ اسے دیکھیں یا ہاتھ لگائیں ) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : پھر یہ آیت اتری : «يا بني آدم خذوا زينتكم عند كل مسجد» ” اے بنی آدم ! جس کسی بھی مسجد میں جاؤ اپنا لباس پہن لیا کرو “ ( الأعراف : ۳۱ ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2959]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/التفسیر 2 (3028)، (تحفة الأشراف: 5615) (صحیح)