سنن النسائي حدیث نمبر: 2949
Sunan an-Nasa'i 2949
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
155: بَابُ : الْعِلَّةِ الَّتِي مِنْ أَجْلِهَا سَعَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْبَيْتِ
باب: خانہ کعبہ کے طواف کے وقت نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے رمل کرنے کی علت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنِ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ، فَقَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَرَأَيْتَ إِنْ زُحِمْتُ عَلَيْهِ أَوْ غُلِبْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: " اجْعَلْ أَرَأَيْتَ بِالْيَمَنِ؟ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ".
زبیر بن عدی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر سے حجر اسود کے استلام کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے چھوتے اور چومتے دیکھا ہے ، اس آدمی نے کہا : اگر میرے اس تک پہنچنے میں بھیڑ آڑے آ جائے یا میں مغلوب ہو جاؤں اور نہ جا پاؤں تو ؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : «أرأیت» ۱؎ کو تم یمن میں رکھو ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے چھوتے اور چومتے دیکھا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2949]
💡 وضاحت:
۱؎: «أرأیت» مطلب یہ ہے کہ ”اگر مگر“ چھوڑو جسے سنت رسول کی جستجو ہوا سے اس طرح کے سوالات زیب نہیں دیتے یہ تو تارکین سنت کا شیوہ ہے، سنت رسول کو جان لینے کے بعد اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے جہاں تک ممکن ہو کوشش کرنی چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحج 60 (1611)، سنن الترمذی/الحج 37 (861)، (تحفة الأشراف: 6719) مسند احمد (3/152) (صحیح)