سنن النسائي حدیث نمبر: 2933
Sunan an-Nasa'i 2933
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
142: بَابُ : طَوَافِ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ
باب: عمرہ کا احرام باندھنے والے کا طواف۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ وَسَأَلْنَاهُ عَنْ رَجُلٍ قَدِمَ مُعْتَمِرًا، فَطَافَ بِالْبَيْتِ، وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَيَأْتِي أَهْلَهُ؟ قَالَ: " لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , وَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ".
عمرو کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ، اور ہم نے ان سے ایک شخص کے بارے میں پوچھا جو عمرہ کی نیت کر کے آیا ، اور اس نے بیت اللہ کا طواف کیا ، لیکن صفا و مروہ کے درمیان سعی نہیں کی ۔ کیا وہ اپنی بیوی کے پاس آ سکتا ہے انہوں نے جواب دیا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ آئے تو آپ نے بیت اللہ کے سات پھیرے کیے ، اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی ، اور تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بہترین نمونہ ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2933]
💡 وضاحت:
۱؎: اس لیے تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنی چاہیئے، اور سعی کئے بغیر بیوی سے صحبت نہیں کرنی چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 30 (395)، الحج 69 (1623)، 72 (1627)، 80 (1445، 1447)، العمرة11 (1793)، صحیح مسلم/الحج 28 (1234)، سنن ابن ماجہ/الحج 33 (2959)، (تحفة الأشراف: 7352)، مسند احمد (2/15، 152، 3/309)، ویأتي عند المؤلف بأرقام 2963، 2969 (صحیح)