سنن النسائي حدیث نمبر: 2912
Sunan an-Nasa'i 2912
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
127: بَابُ : مَوْضِعِ الصَّلاَةِ فِي الْبَيْتِ
باب: بیت اللہ (کعبہ) میں نماز پڑھنے کی جگہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَنْبِجِيُّ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: " دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ، فَسَبَّحَ فِي نَوَاحِيهَا، وَكَبَّرَ، وَلَمْ يُصَلِّ، ثُمَّ خَرَجَ، فَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: " هَذِهِ الْقِبْلَةُ".
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے ، تو اس کے کناروں میں آپ نے تسبیح پڑھی اور تکبیر کہی اور نماز نہیں پڑھی ۱؎ ، پھر آپ باہر نکلے ، اور مقام ابراہیم کے پیچھے آپ نے دو رکعتیں پڑھیں ، پھر فرمایا : ” یہ قبلہ ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2912]
💡 وضاحت:
۱؎: اسامہ کی یہ نفی ان کے اپنے علم کی بنیاد پر ہے، وہ کسی کام میں مشغول رہے ہوں گے جس کی وجہ سے انہیں آپ کے نماز پڑھنے کا علم نہیں ہو سکا ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
منكر بذكر المقام
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، عبدالمجيد بن عبدالعزيز بن أبى رواد: ضعفه الجمهور (الفتح المبين: 82/ 3 ص 101) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 343
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 110)، مسند احمد (5/209، 210) (منکر) (اسامہ کی اس روایت میں صرف ”خلف المقام‘‘ کا ذکر منکر ہے (جو کسی کے نزدیک نہیں ہے) باقی باتیں سنداً صحیح ہیں)