سنن النسائي حدیث نمبر: 2903
Sunan an-Nasa'i 2903
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
125: بَابُ : بِنَاءِ الْكَعْبَةِ
باب: کعبہ کی تعمیر کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ , قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوْا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام" , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ: " لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ" , قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُرَى تَرْكَ اسْتِلَامِ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہاری قوم نے جس وقت کعبہ کو بنایا تو ان لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد میں کمی کر دی “ تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر اسے کیوں نہیں بنا دیتے ؟ آپ نے فرمایا : ” اگر تمہاری قوم زمانہ کفر سے قریب نہ ہوتی ۱؎ “ ( تو میں ایسا کر ڈالتا ) ۲؎ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اگر عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی بات سنی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حطیم سے قریب کے دونوں رکن ( رکن شامی و عراقی ) کو بوسہ نہ لینے کی وجہ یہی ہے کہ خانہ کعبہ کی ( اس جانب سے ) ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر تکمیل نہیں ہوئی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2903]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اگر وہ نئے نئے مسلمان نہ ہوئے ہوتے۔ ۲؎: یعنی اسے گرا کر کے ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر اس کی تعمیر کر دیتا لیکن چونکہ ابھی اسلام ان کے دلوں میں پوری طرح راسخ نہیں ہوا ہے اس لیے ایسا کرنے سے ڈر ہے کہ وہ اسلام سے متنفر نہ ہو جائیں، اور اسے غلط اقدام سمجھیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحج 42 (1583)، أحادیث الأنبیاء 10 (3368)، تفسیر البقرة 10 (4484)، صحیح مسلم/الحج 69 (1333)، موطا امام مالک/الحج 33 (104)، مسند احمد (6/113، 176، 177، 247، 253، 262) (صحیح)