سنن النسائي حدیث نمبر: 2857
Sunan an-Nasa'i 2857
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
98: بَابُ : فِي كَمْ يُكَفَّنُ الْمُحْرِمُ إِذَا مَاتَ
باب: محرم جب مر جائے تو کتنے کپڑوں میں کفنا دیا جائے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا مُحْرِمًا صُرِعَ عَنْ نَاقَتِهِ فَأُوقِصَ، ذُكِرَ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: عَلَى إِثْرِهِ خَارِجًا رَأْسُهُ، قَالَ: وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا" , قَالَ شُعْبَةُ: فَسَأَلْتُهُ بَعْدَ عَشْرِ سِنِينَ، فَجَاءَ بِالْحَدِيثِ كَمَا كَانَ يَجِيءُ بِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " وَلَا تُخَمِّرُوا وَجْهَهُ وَرَأْسَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک محرم اپنی اونٹنی سے گر گیا ، تو اس کی گردن ٹوٹ گئی ، ذکر کیا گیا کہ وہ مر گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو ، اور دو کپڑوں ہی میں اسے کفنا دو “ ، اس کے بعد یہ بھی فرمایا : ” اس کا سر کفن سے باہر رہے “ ، فرمایا : ” اور اسے کوئی خوشبو نہ لگانا کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا “ ۔ شعبہ ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں : میں نے ان سے ( یعنی اپنے استاد ابوبشر سے ) دس سال بعد پوچھا تو انہوں نے یہ حدیث اسی طرح بیان کی جیسے پہلے کی تھی البتہ انہوں نے ( اس بار اتنا مزید ) کہا کہ ” اس کا منہ اور سر نہ ڈھانپو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2857]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2714 (صحیح)