سنن النسائي حدیث نمبر: 2840
Sunan an-Nasa'i 2840
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
90: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي النِّكَاحِ لِلْمُحْرِمِ
باب: محرم کے نکاح کی رخصت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ , عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الشَّعْثَاءِ يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اور آپ محرم تھے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2840]
💡 وضاحت:
۱؎: سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ اس سلسلہ میں ابن عباس کو وہم ہوا ہے کیونکہ ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا کا خود بیان ہے کہ رسول اللہ نے مجھ سے شادی کی تو ہم دونوں حلال تھے، نیز ان دونوں کا نکاح کرانے والے ابورافع رضی الله عنہ کا بیان بھی ابن عباس رضی الله عنہما کے برعکس ہے، دراصل ابن عباس رضی الله عنہما نے مکہ نہ جا کر صرف ہدی کا جانور بھیج دینے کو بھی احرام سمجھا، حالانکہ یہ احرام نہیں ہوتا، اور یہ نکاح اسی حالت میں ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعار کر کے ہدی بھیج دی اور حج سے رہ گئے، اور بقولِ عائشہ رضی الله عنہا آپ نے اپنے اوپر احرام کی کوئی بات لاگو نہیں کی، (دیکھئیے سنن ابوداؤد حدیث رقم ۱۸۴۲) ایک قول یہ بھی ہے کہ آپ نے حالت احرام میں نکاح سے ممانعت ”حجۃ الوداع“ میں کی تھی، اور میمونہ رضی الله عنہا سے نکاح اس حرمت سے پہلے کیا تھا۔ واللہ اعلم
قال الشيخ الألباني:
شاذ
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/ انکاح 30 (5115)، صحیح مسلم/انکاح 5 (1410)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج 39 (1844)، سنن الترمذی/ الحج 24 (844)، سنن ابن ماجہ/النکاح45 (1965)، (تحفة الأشراف: 5376)، مسند احمد 1/221، 228، 245، 266، 270، 283، 285، 286، 324، 330، 333، 336، 337، 346، 351، 354، 360، 361 سنن الدارمی/المناسک21 (1863)، ویأتی عند المؤلف فیما یأتی برقم: 3274 (صحیح) (ابن عباس کا وہم ہے کہ میمونہ سے شادی حالت احرام میں ہوئی، صحیح اور ثابت یہی ہے کہ احرام سے باہر یہ شادی ہوئی، اسی لیے علماء نے ابن عباس سے ثابت ان احادیث کو شاذ کہا ہے)