سنن النسائي حدیث نمبر: 2834
Sunan an-Nasa'i 2834
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
85: بَابُ : قَتْلِ الْوَزَغِ
باب: چھپکلی مارنے کا بیان۔
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ امْرَأَةً دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ وَبِيَدِهَا عُكَّازٌ، فَقَالَتْ: مَا هَذَا؟ فَقَالَتْ: لِهَذِهِ الْوَزَغِ، لِأَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ إِلَّا يُطْفِئُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام، إِلَّا هَذِهِ الدَّابَّةُ، فَأَمَرَنَا بِقَتْلِهَا، وَنَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ، إِلَّا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ، وَيُسْقِطَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَاءِ".
تابعی سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ایک عورت ام المؤمنین عائشہ کے پاس آئی ، اور ان کے ہاتھ میں لوہے کی پھلی لگی ہوئی لاٹھی تھی ، اس عورت نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ کہا : یہ ان چھپکلیوں ( کے مارنے ) کے لیے ہے ۔ اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کی آگ کو اس جانور کے سوا سبھی جانور بجھاتے تھے اسی وجہ سے آپ نے ہمیں اسے مارنے کا حکم دیا ہے ۔ اور گھروں میں رہنے والے سانپ کے مارنے سے روکا ہے سوائے دو دھاریوں والے ، اور دم بریدہ سانپ کے کیونکہ یہ دونوں بصارت کو زائل کر دیتے ہیں ، اور حاملہ عورت کا حمل گرا دیتے ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2834]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، قتادة عنعن. وانظر سنن ابن ماجه (3231 بتحقيقي) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 342
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16124)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصید12 (3231)، مسند احمد (6/83، 109، 217) (صحیح)