سنن النسائي حدیث نمبر: 2830
Sunan an-Nasa'i 2830
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
81: بَابُ : إِذَا أَشَارَ الْمُحْرِمُ إِلَى الصَّيْدِ فَقَتَلَهُ الْحَلاَلُ
باب: محرم جب شکار کی طرف اشارہ کرے اور غیر محرم شکار کرے تو کیا حکم ہے؟
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَمْرٍو، عَنْ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَادَ لَكُمْ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ وَإِنْ كَانَ قَدْ رَوَى عَنْهُ مَالِكٌ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” خشکی کا شکار تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم خود شکار نہ کرو ، یا تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے “ ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : اس حدیث میں «عمرو بن ابی عمرو» قوی نہیں ہیں ، گو امام مالک نے ان سے روایت کی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2830]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1851) ترمذي (846) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 342
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الحج41 (1851)، سنن الترمذی/الحج25 (846)، (تحفة الأشراف: 3098)، مسند احمد (3/362، 387، 389) (ضعیف)