سنن النسائي حدیث نمبر: 2821
Sunan an-Nasa'i 2821
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
79: بَابُ : مَا لاَ يَجُوزُ لِلْمُحْرِمِ أَكْلُهُ مِنَ الصَّيْدِ
باب: کس طرح کا شکار کھانا محرم کے لیے ناجائز ہے؟
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ، أَوْ بِوَدَّانَ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وَجْهِي قَالَ: " أَمَا إِنَّهُ لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ".
صعب بن جثامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ کو ایک نیل گائے ہدیہ کیا اور آپ ابواء یا ودان میں تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے انہیں واپس کر دیا ۔ پھر جب آپ نے میرے چہرے پر جو کیفیت تھی دیکھی تو فرمایا : ” ہم نے صرف اس وجہ سے اسے تمہیں واپس کیا ہے کہ ہم احرام باندھے ہوئے ہیں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2821]
💡 وضاحت:
۱؎: ”ابواء“ اور ”ودّان“ یہ دونوں جگہوں کے نام ہیں جو مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/جزاء الصید6 (1825)، الہبة6 (2573)، 17 (2596)، صحیح مسلم/الحج8 (1193)، سنن الترمذی/الحج26 (849)، ق92 (3090)، (تحفة الأشراف: 4940)، موطا امام مالک/الحج 25 (83)، مسند احمد (4/37، 38، 71، 73)، سنن الدارمی/المناسک 22 (1870) (صحیح)