سنن النسائي حدیث نمبر: 2818
Sunan an-Nasa'i 2818
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
78: بَابُ : مَا يَجُوزُ لِلْمُحْرِمِ أَكْلُهُ مِنَ الصَّيْدِ
باب: محرم کے لیے جائز شکار کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، وَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ، ثُمَّ سَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ، فَأَبَوْا، فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ، فَأَبَوْا، فَأَخَذَهُ، ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ، فَقَتَلَهُ فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَى بَعْضُهُمْ، فَأَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ".
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ ( حج کے موقع پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے یہاں تک کہ وہ مکہ کے راستہ میں احرام باندھے ہوئے اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے ، اور وہ خود محرم نہیں تھے ( وہاں ) انہوں نے ایک نیل گائے دیکھی ، تو وہ اپنے گھوڑے پر جم کر بیٹھ گئے ، پھر انہوں نے اپنے ساتھیوں سے درخواست کی وہ انہیں ان کا کوڑا دے دیں ، تو ان لوگوں نے انکار کیا تو انہوں نے خود ہی لے لیا ، پھر تیزی سے اس پر جھپٹے ، اور اسے مار گرایا ، تو اس میں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب نے کھایا ، اور بعض نے کھانے سے انکار کیا ۔ پھر ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پا لیا تو آپ سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تو ایسی غذا ہے جسے اللہ عزوجل نے تمہیں کھلایا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2818]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/جزاء الصید 4 (1823)، الہبة 3 (2570)، الجہاد 46 (2854)، 88 (2914)، الأطعمة 19 (5406، 5407)، الذبائح 10 (5491)، 11 (5492)، صحیح مسلم/الحج 8 (1196)، سنن ابی داود/المناسک؟؟ (1852)، سنن الترمذی/الحج 25 (847)، (تحفة الأشراف: 12131)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحج93 (3093)، موطا امام مالک/الحج24 (76)، مسند احمد (5/296، 301، 306)، سنن الدارمی/المناسک 22 (1867) (صحیح)