سنن النسائي حدیث نمبر: 2801
Sunan an-Nasa'i 2801
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
74: بَابُ : رُكُوبِ الْبَدَنَةِ
باب: ہدی کے جانور پر سوار ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً، قَالَ: " ارْكَبْهَا"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: " ارْكَبْهَا، وَيْلَكَ" , فِي الثَّانِيَةِ، أَوْ فِي الثَّالِثَةِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ قربانی کے اونٹ کو ہانک کر لے جا رہا ہے آپ نے فرمایا : ” اس پر سوار ہو جاؤ “ ، اس نے کہا : اللہ کے رسول ! ہدی کا اونٹ ہے ۔ آپ نے ( پھر ) فرمایا : ” سوار ہو جاؤ “ ، تمہارا ، برا ہو ، راوی کو شک ہے «ويلك» ” تمہارا برا ہو “ ۱؎ کا کلمہ آپ نے دوسری بار میں کہا یا تیسری بار میں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2801]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے یہاں بدعا مقصود نہیں بلکہ زجر و توبیخ مراد ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحج 103 (1689)، 112 (1706)، الوصایا 12 (2755)، الأدب 95 (6160)، صحیح مسلم/الحج 65 (1322)، سنن ابی داود/الحج 18 (1760)، (تحفة الأشراف: 13081)، موطا امام مالک/الحج 45 (139)، مسند احمد (2/254، 278، 312، 464، 474، 481، 487، 505) (صحیح)