سنن النسائي حدیث نمبر: 2797
Sunan an-Nasa'i 2797
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
72: بَابُ : هَلْ يُوجِبُ تَقْلِيدُ الْهَدْىِ إِحْرَامًا
باب: کیا ہدی کے گلے میں ہار ڈالنے سے احرام واجب ہو جاتا ہے؟
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا، وَلَا نَعْلَمُ الْحَجَّ، يُحِلُّهُ إِلَّا الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے ہار بٹتی تھی تو آپ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتے تھے ، اور ہم نہیں جانتے کہ حج سے ( حاجی کو ) بیت اللہ کے طواف ۱؎ کے علاوہ بھی کوئی چیز حلال کرتی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2797]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی طواف زیارت کے بعد ہی حاجی پورے طور سے حلال ہوتا ہے، رہا حلق تو اس سے کلی طور پر حلال نہیں ہوتا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الحج 64 (1321)، (تحفة الأشراف: 17487) (صحیح) (حدیث کا آخری ٹکڑا ’’لانعلم‘‘صحیح مسلم میں نہیں ہے)