سنن النسائي حدیث نمبر: 2777
Sunan an-Nasa'i 2777
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
65: بَابُ : فَتْلِ الْقَلاَئِدِ
باب: اونٹوں کے گلے کا ہار بٹنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهْدِي مِنْ الْمَدِينَةِ، فَأَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِهِ، ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے ہدی ( قربانی کے جانور ) بھیجتے تھے تو میں آپ کی ہدی کے ہار بٹتی تھی پھر آپ ان چیزوں میں سے کسی چیز سے بھی اجتناب نہ کرتے تھے جن چیزوں سے محرم اجتناب کرتا ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2777]
💡 وضاحت:
۱؎: اس لیے کہ محض ہدی بھیجنے سے آدمی محرم نہیں ہوتا جب تک کہ وہ خود ہدی کے ساتھ نہ جائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحج 106 (1698)، 107 (1699)، 108 (1700)، 109 (1702)، 110 (1703)، الوکالة 14 (2317)، الأضاحي 15 (5566)، صحیح مسلم/الحج 64 (1321)، سنن ابی داود/الحج 17 (1758)، سنن الترمذی/الحج 70 (909)، سنن ابن ماجہ/الحج 94 (1094)، (تحفة الأشراف: 16582، 17923)، مسند احمد (6/35، 36، 78، 82، 85، 91، 102، 127، 174، 180، 185، 190، 191، 200، 208، 213، 216، 218، 225، 236، 253، 262) (صحیح)