سنن النسائي حدیث نمبر: 2726
Sunan an-Nasa'i 2726
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
49: بَابُ : الْقِرَانِ
باب: حج قِران کا بیان۔
أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ حِينَ أَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْيَمَنِ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَلِيٌّ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيْفَ صَنَعْتَ؟" قُلْتُ: أَهْلَلْتُ بِإِهْلَالِكَ , قَالَ: فَإِنِّي سُقْتُ الْهَدْيَ وَقَرَنْتُ، قَالَ: وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: " لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، لَفَعَلْتُ كَمَا فَعَلْتُمْ، وَلَكِنِّي سُقْتُ الْهَدْيَ وَقَرَنْتُ".
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کا حاکم بنایا ، پھر جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، علی رضی اللہ عنہ نے کہا : تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو آپ نے مجھ سے پوچھا : ” تم نے کیسے کیا ہے ؟ “ یعنی کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے ، میں نے کہا : میں نے آپ کا تلبیہ پکارا ہے ( یعنی آپ کے احرام کے مطابق احرام باندھا ہے ) ، آپ نے فرمایا : ” میں تو ہدی ساتھ لایا ہوں ، اور میں نے قِران کیا ہے “ ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : ” اگر مجھے پہلے وہ باتیں معلوم ہوئی ہوتیں جواب معلوم ہوئی ہیں تو میں بھی ویسے ہی کرتا جیسے تم نے کیا ہے ۱؎ لیکن میں ہدی ساتھ لایا ہوں ، اور میں نے حج قِران کا احرام باندھ رکھا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2726]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی میں بھی احرام کھول کر حلال ہو جاتا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1979) وحديث الآتي (2746) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 342
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الحج24 (1797)، (تحفة الأشراف: 10026) ویأتی عند المؤلف برقم 2746 (صحیح)