سنن النسائي حدیث نمبر: 2683
Sunan an-Nasa'i 2683
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
40: بَابُ : التَّلْبِيدِ عِنْدَ الإِحْرَامِ
باب: احرام کے وقت بالوں کو گوند وغیرہ سے جما لینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أُخْتِهِ حَفْصَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ؟ قَالَ: " إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أُحِلُّ حَتَّى أُحِلَّ مِنَ الْحَجِّ".
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا بات ہے لوگوں نے احرام کھول دیا ہے اور آپ نے اپنے عمرہ کا احرام نہیں کھولا ؟ آپ نے فرمایا : ” میں نے اپنے سر کی تلبید ۱؎ ، اور اپنے ہدی کی تقلید ۲؎ کر رکھی ہے ، تو میں احرام نہیں کھولوں گا جب تک کہ حج سے فارغ نہ ہو جاؤں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2683]
💡 وضاحت:
۱؎: تلبید: بالوں کو گوند وغیرہ سے جما لینے کو کہتے ہیں تاکہ وہ بکھریں نہیں اور گرد و غبار سے محفوظ رہیں۔ ۲؎: قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ یا اور کوئی چیز لٹکانے کو تقلید کہتے ہیں تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ ہدی کا جانور ہے اس کا فائدہ یہ تھا کہ عرب ایسے جانور کو لوٹتے نہیں تھے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحج34 (1566)، 107 (1697)، 126 (1725)، والمغازی77 (4398)، صحیح مسلم/الحج25 (1229)، سنن ابی داود/الحج24 (1806)، سنن ابن ماجہ/الحج72 (3046)، (تحفة الأشراف: 15800)، موطا امام مالک/الحج 58 (180)، مسند احمد (6/283، 284، 285) ویأتی عند المؤلف برقم: 2783 (صحیح)