سنن النسائي حدیث نمبر: 2664
Sunan an-Nasa'i 2664
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
26: بَابُ : الْغُسْلِ لِلإِهْلاَلِ
باب: تلبیہ پکارنے کے لیے غسل کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، أَنَّهَا وَلَدَتْ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بِالْبَيْدَاءِ، فَذَكَرَ أَبُو بَكْرٍ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مُرْهَا فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لِتُهِلَّ".
اسماء بنت عمیس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے محمد بن ابی بکر صدیق کو بیداء میں جنا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : ” ان سے کہو کہ غسل کر لیں پھر لبیک پکاریں “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2664]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ غسل نظافت کے لیے ہے طہارت کے لیے نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15761)، موطا امام مالک/الحج 1 (1)، مسند احمد (6/369)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الحج16 (1209)، سنن ابن ماجہ/ الحج 12 (2911) (صحیح)