سنن النسائي حدیث نمبر: 2641
Sunan an-Nasa'i 2641
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْحَجُّ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَثْبُتُ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَإِنْ شَدَدْتُهُ خَشِيتُ أَنْ يَمُوتَ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ، أَكَانَ مُجْزِئًا؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَحُجَّ عَنْ أَبِيكَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : میرے باپ کو ( فریضہ ) حج نے اس حال میں پایا کہ وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں اپنی سواری پر ٹک نہیں سکتے ، اگر میں انہیں سواری پر بٹھا کر باندھ دوں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں مر نہ جائیں ۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں ؟ آپ نے فرمایا : ” تمہارا کیا خیال ہے اگر ان پر قرض ہوتا تو اسے ادا کرتے ، تو وہ کافی ہو جاتا “ ؟ اس نے کہا : ہاں ( کافی ہو جاتا ) آپ نے فرمایا : ” پھر اپنے باپ کی طرف سے حج کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2641]
قال الشيخ الألباني:
شاذ أو منكر بذكر الرجل والمحفوظ أن السائل امرأة
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلنسائي، (تحفة الأشراف: 5657)، انظر حدیث رقم: 2635 (شاذ أومنکر) (اس کے راوی ’’ہشیم“ کثیر التدلیس ہیں، سائل کا عورت ہونا ہی محفوظ بات ہے)