سنن النسائي حدیث نمبر: 2633
Sunan an-Nasa'i 2633
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
7: بَابُ : الْحَجِّ عَنِ الْمَيِّتِ الَّذِي، نَذَرَ أَنْ يَحُجّ
باب: حج کی نذر ماننے والے کی طرف سے حج بدل کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَة، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَمَاتَتْ، فَأَتَى أَخُوهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُخْتِكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَاقْضُوا اللَّهَ، فَهُوَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے حج کی نذر مانی ، پھر ( حج کئے بغیر ) مر گئی ، اس کا بھائی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ سے اس بارے میں مسئلہ پوچھا تو آپ فرمایا : ” بتاؤ اگر تمہاری بہن پر قرض ہوتا تو کیا تم ادا کرتے ؟ “ اس نے کہا : ہاں میں ادا کرتا ، آپ نے فرمایا : ” تو اللہ کا قرض ادا کرو وہ تو اور بھی ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2633]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/جزاء الصید 22 (1852)، الأیمان والنذور 30 (6699)، الاعتصام 12 (7315)، (تحفة الأشراف: 5457)، مسند احمد (1/239، 345) سنن الدارمی/الصوم 49 (1809)، النذور الأیمان 1 (2377) (صحیح)