سنن النسائي حدیث نمبر: 2629
Sunan an-Nasa'i 2629
کتاب #28: کتاب: حج کے احکام و مناسک
4: بَابُ : فَضْلِ الْحَجِّ
باب: حج کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ حَبِيبٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةُ , قَالَت: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلَا نَخْرُجُ فَنُجَاهِدَ مَعَكَ فَإِنِّي لَا أَرَى عَمَلًا فِي الْقُرْآنِ أَفْضَلَ مِنَ الْجِهَادِ، قَالَ: " لَا وَلَكُنَّ أَحْسَنُ الْجِهَادِ وَأَجْمَلُهُ حَجُّ الْبَيْتِ حَجٌّ مَبْرُورٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم نکل کر آپ کے ساتھ جہاد نہ کریں کیونکہ میں قرآن میں جہاد سے زیادہ افضل کوئی عمل نہیں دیکھتی ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں ، لیکن ( تمہارے لیے ) سب سے بہتر اور کامیاب جہاد بیت اللہ کا حج مبرور ( مقبول ) ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2629]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحج4 (1520)، جزاء الصید26 (1861)، والجہاد 1 (2784)، 62 (2875)، سنن ابن ماجہ/المناسک 8 (2901)، (تحفة الأشراف: 17871)، مسند احمد (6/71، 76، 79، 165) (صحیح)