سنن النسائي حدیث نمبر: 2602
Sunan an-Nasa'i 2602
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
93: بَابُ : مَسْأَلَةِ الرَّجُلِ فِي أَمْرٍ لاَ بُدَّ لَهُ مِنْهُ
باب: آدمی کا ایسی چیز مانگنا جس کے بغیر چارہ نہیں۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا حَكِيمُ , إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ، لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى".
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے دیا ، پھر مانگا تو پھر دیا ، پھر آپ نے فرمایا : ” یہ مال ہری بھری اور میٹھی چیز ہے ، جو شخص اسے دل کی پاکیزگی کے ساتھ لے گا تو اسے اس میں برکت ملے گی ، اور جو شخص اسے نفس کی حرص و طمع سے لے گا تو اس میں اسے برکت نہیں دی جائے گی ۔ وہ اس شخص کی طرح ہو گا جو کھائے لیکن اس کا پیٹ نہ بھرے ۔ ( جان لو ) اوپر والا ( یعنی دینے والا ) ہاتھ نیچے والے ( یعنی لینے والے ) ہاتھ سے بہتر ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2602]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 50 (1472) مطولا، (تحفة الأشراف: 3431)، مسند احمد (3/434) (صحیح)