سنن النسائي حدیث نمبر: 2581
Sunan an-Nasa'i 2581
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
80: بَابُ : الصَّدَقَةِ لِمَنْ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ
باب: دوسرے کا قرضہ اپنے ذمہ لینے والے شخص کو صدقہ دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ، قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فِيهَا فَقَالَ: " أَقِمْ يَا قَبِيصَةُ، حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ فَنَأْمُرَ لَكَ , قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا قَبِيصَةُ! إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً، فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكَ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ، حَتَّى يَشْهَدَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ قَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ، حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ، فَمَا سِوَى هَذَا مِنَ الْمَسْأَلَةِ يَا قَبِيصَةُ سُحْتٌ، يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا".
قبیصہ بن مخارق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ایک قرض اپنے ذمہ لے لیا ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( ادائیگی کے لیے روپے ) مانگنے آیا ، تو آپ نے فرمایا : ” اے قبیصہ رکے رہو ۔ ( کہیں سے ) صدقہ آ لینے دو ، تو ہم تمہیں اس میں سے دلوا دیں گے “ ، وہ کہتے ہیں ـ : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے قبیصہ ! صدقہ تین طرح کے لوگوں کے سوا کسی کے لیے جائز نہیں ہے : وہ شخص جو کسی کا بوجھ خود اٹھا لے ۱؎ تو اس کے لیے مانگنا درست ہے ، یہاں تک کہ اس سے اس کی ضرورت پوری ہو جائے ، اور ( دوسرا ) وہ شخص جو کسی ناگہانی آفت کا شکار ہو جائے ، اور وہ اس کا مال تباہ کر دے ، تو اس کے لیے مانگنا جائز ہے یہاں تک کہ وہ اسے پا لے ، پھر رک جائے ، ( تیسرا ) وہ شخص جو فاقہ کا شکار ہو گیا ہو یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین سمجھ دار افراد گواہی دیں کہ ہاں واقعی فلاں شخص فاقہ کا مارا ہوا ہے ، تو اس کے لیے مانگنا جائز ہے یہاں تک کہ اس کے گزارہ کا انتظام ہو جائے ، ان کے علاوہ مانگنے کی جو بھی صورت ہے حرام ہے ، اے قبیصہ ! اور جو کوئی مانگ کر کھاتا ہے حرام کھاتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2581]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی کسی کا قرض وغیرہ اپنے ذمہ لے لے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ماقبلہ (صحیح)