سنن النسائي حدیث نمبر: 2573
Sunan an-Nasa'i 2573
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
76: بَابُ : تَفْسِيرِ الْمِسْكِينِ
باب: مسکین کی تفسیر۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِهَذَا الطَّوَّافِ، الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ، وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ" , قَالُوا: فَمَا الْمِسْكِينُ؟ , قَالَ: " الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ، وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ، وَلَا يَقُومُ فَيَسْأَلَ النَّاسَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسکین وہ نہیں ہے جو اس طرح لوگوں کے پاس چکر لگائے کہ ایک لقمہ دو لقمے یا ایک کھجور دو کھجوریں اسے در در پھرائیں “ ، لوگوں نے پوچھا : پھر مسکین کون ہے ؟ فرمایا : ” مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال و دولت نہ ہو کہ وہ اپنی ضرورت کی تکمیل کے لیے دوسروں کا محتاج نہ رہے ، اور وہ محسوس بھی نہ ہو سکے کہ وہ مسکین ہے کہ اسے ضرورت مند سمجھ کر صدقہ دیا جائے ۔ اور نہ ہی وہ لوگوں کے سامنے مانگنے کے لیے ہاتھ پھیلائے کھڑا ہوتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2573]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة 53 (1479)، (تحفة الأشراف: 13829)، موطا امام مالک/صفة النبي 5 (7) (صحیح)