سنن النسائي حدیث نمبر: 2556
Sunan an-Nasa'i 2556
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
64: بَابُ : التَّحْرِيضِ عَلَى الصَّدَقَةِ
باب: صدقہ پر ابھارنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حَارِثَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " تَصَدَّقُوا فَإِنَّهُ سَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَمْشِي الرَّجُلُ بِصَدَقَتِهِ، فَيَقُولُ: الَّذِي يُعْطَاهَا لَوْ جِئْتَ بِهَا بِالْأَمْسِ قَبِلْتُهَا فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَا".
حارثہ بن وہب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ صدقہ کرو کیونکہ تم پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ آدمی اپنا صدقہ لے کر دینے چلے گا تو جس شخص کو وہ دینے جائے گا وہ شخص کہے گا : اگر تم کل لے کر آئے ہوتے تو میں لے لیتا ، لیکن آج تو آج نہیں لوں گا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2556]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ آج میں مالدار ہو گیا ہوں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة9 (1411)، 16 (1424)، الفتن25 (7120)، صحیح مسلم/الزکاة18 (1011)، (تحفة الأشراف: 3286)، مسند احمد (4/306) (صحیح)