سنن النسائي حدیث نمبر: 2533
Sunan an-Nasa'i 2533
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
51: بَابُ : أَيَّتِهِمَا الْيَدُ الْعُلْيَا
باب: اوپر والا ہاتھ کون سا ہے؟
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ طَارِقٍ الْمُحَارِبِيِّ، قَالَ: قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ يَقُولُ: " يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ، ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ مُخْتَصَرٌ".
طارق محاربی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے خطبہ دے رہے ہیں آپ فرما رہے ہیں : دینے والے کا ہاتھ اوپر والا ہے ، اور پہلے انہیں دو جن کی کفالت و نگہداشت کی ذمہ داری تم پر ہو : پہلے اپنی ماں کو ، پھر اپنے باپ کو ، پھر اپنی بہن کو ، پھر اپنے بھائی کو ، پھر اپنے قریبی کو ، پھر اس کے بعد کے قریبی کو ۔ یہ حدیث ایک لمبی حدیث کا اختصار ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2533]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4988) (صحیح)