سنن النسائي حدیث نمبر: 2517
Sunan an-Nasa'i 2517
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
40: بَابُ : الْحِنْطَةِ
باب: صدقہ فطر میں گیہوں دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ خَطَبَ بِالْبَصْرَةِ فَقَالَ: أَدُّوا زَكَاةَ صَوْمِكُمْ فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ: مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قُومُوا إِلَى إِخْوَانِكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ، فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَرَضَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الصَّغِيرِ، وَالْكَبِيرِ، وَالْحُرِّ، وَالْعَبْدِ، وَالذَّكَرِ، وَالْأُنْثَى نِصْفَ صَاعِ بُرٍّ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ شَعِيرٍ" , قَالَ الْحَسَنُ: فَقَالَ عَلِيٌّ: أَمَّا إِذَا أَوْسَعَ اللَّهُ فَأَوْسِعُوا أَعْطُوا صَاعًا مِنْ بُرٍّ أَوْ غَيْرِهِ.
حسن ( حسن بصریٰ ) سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بصرہ میں خطبہ دیا ، تو انہوں نے کہا : تم لوگ اپنے روزوں کی زکاۃ دو ( یعنی صدقہ فطر نکالو ) تو لوگ ایک دوسرے کو تکنے لگے ۔ تو انہوں نے کہا : یہاں اہل مدینہ میں سے کون کون ہیں ؟ تم لوگ اٹھو ، اور اپنے بھائیوں کے پاس جاؤ ، انہیں بتاؤ ، کیونکہ وہ لوگ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر چھوٹے ، بڑے ، آزاد اور غلام ، مذکر اور مونث پر آدھا صاع گی ہوں ، یا ایک صاع کھجور ، یا جو فرض کیا ہے ۔ حسن کہتے ہیں : علی رضی اللہ عنہ نے کہا : رہی بات جب اللہ نے تمہیں وسعت و فراخی دے رکھی ہو تو تم بھی وسعت و فراخی کا مظاہرہ کرو ۔ گیہوں وغیرہ ( نصف صاع کے بجائے ) ایک صاع دو ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2517]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد صحيح المرفوع منه
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (1581) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 340
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1581 (ضعیف الإسناد) (حسن بصری کا ابن عباس سے سماع نہیں ہے)