سنن النسائي حدیث نمبر: 2510
Sunan an-Nasa'i 2510
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
36: بَابُ : مَكِيلَةِ زَكَاةِ الْفِطْرِ
باب: صدقہ فطر ناپنے کے پیمانہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ أَمِيرُ الْبَصْرَةِ فِي آخِرِ الشَّهْرِ: " أَخْرِجُوا زَكَاةَ صَوْمِكُمْ، فَنَظَرَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ: مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قُومُوا فَعَلِّمُوا إِخْوَانَكُمْ فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ أَنَّ هَذِهِ الزَّكَاةَ فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ ذَكَرٍ، وَأُنْثَى حُرٍّ، وَمَمْلُوكٍ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ تَمْرٍ أَوْ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ، فَقَامُوا" , خَالَفَهُ هِشَامٌ فَقَالَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ.
حسن بصری کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رمضان کے مہینے کے آخر میں کہا ( جب وہ بصرہ کے امیر تھے ) : تم اپنے روزوں کی زکاۃ نکالو ، تو لوگ ایک دوسرے کو تکنے لگے تو انہوں نے پوچھا : مدینہ والوں میں سے یہاں کون کون ہے ( جو بھی ہو ) اٹھ جاؤ ، اور اپنے بھائیوں کو بتاؤ ، کیونکہ یہ لوگ نہیں جانتے کہ اس زکاۃ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرد ، عورت ، آزاد اور غلام پر ایک صاع جو یا کھجور ، یا آدھا صاع گی ہوں فرض کیا ہے ، تو لوگ اٹھے ( اور انہوں نے لوگوں کو بتایا ) ۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں : ہشام نے حمید کی مخالفت کی ہے ، انہوں نے «عن محمد بن سيرين» کہا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2510]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (1581) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 340
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1581 (ضعیف الإسناد) (حسن بصری کا ابن عباس رضی الله عنہما سے سماع نہیں ہے)