سنن النسائي حدیث نمبر: 2496
Sunan an-Nasa'i 2496
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
28: بَابُ : الْمَعْدِنِ
باب: کان کی زکاۃ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ , فَقَالَ: " مَا كَانَ فِي طَرِيقٍ مَأْتِيٍّ أَوْ فِي قَرْيَةٍ عَامِرَةٍ، فَعَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَلَكَ، وَمَا لَمْ يَكُنْ فِي طَرِيقٍ مَأْتِيٍّ وَلَا فِي قَرْيَةٍ عَامِرَةٍ فَفِيهِ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راستہ میں پڑی ہوئی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ” جو چیز چالو راستے میں ملے یا آباد بستی میں ، تو سال بھر اسے پہنچواتے رہو ، اگر اس کا مالک آ جائے ( اور پہچان بتائے ) تو اسے دے دو ، ورنہ وہ تمہاری ہے ، اور جو کسی چالو راستے یا کسی آباد بستی کے علاوہ میں ملے تو اس میں اور جاہلیت کے دفینوں میں پانچواں حصہ ہے “ ( یعنی : زکاۃ نکال کر خود استعمال کر لے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2496]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/اللقطة12 (1710)، (تحفة الأشراف: 8755) (حسن)