سنن النسائي حدیث نمبر: 2484
Sunan an-Nasa'i 2484
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
20: بَابُ : مَانِعِ زَكَاةِ مَالِهِ
باب: اپنے مال کی زکاۃ نہ دینے والے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ آتَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ، مُثِّلَ لَهُ مَالُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ، يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ: أَنَا مَالُكَ، أَنَا كَنْزُكَ، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: وَلا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ سورة آل عمران آية 180".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کو اللہ تعالیٰ مال دے اور وہ اس مال کی زکاۃ ادا نہ کرے ، تو قیامت کے دن اس کا مال گنجا سانپ بن جائے گا ، اس کی آنکھ کے اوپر دو سیاہ نقطے ہوں گے ، وہ قیامت کے دن اس کے دونوں کلّے پکڑے گا ، اور اس سے کہے گا : میں تیرا مال ہوں ، میں تیرا خزانہ ہوں “ ۔ پھر آپ نے آیت کریمہ کی تلاوت کی : «ولا يحسبن الذين يبخلون بما آتاهم اللہ من فضله» ” اللہ تعالیٰ نے جنہیں مال دیا ہے وہ بخیلی کر کے یہ نہ سمجھیں کہ یہ ان کے لیے بہتر ہے بلکہ وہی مال قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہو گا “ ( آل عمران : ۱۸۰ ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2484]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الزکاة3 (1403)، تفسیر آل عمران14 (4565)، براء ة6 (4659)، الحیل3 (6957)، (تحفة الأشراف: 12820)، مسند احمد (2/355) (صحیح)