سنن النسائي حدیث نمبر: 2475
Sunan an-Nasa'i 2475
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
18: بَابُ : زَكَاةِ الْوَرِقِ
باب: چاندی کی زکاۃ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے ، اور پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے ۔ اور پانچ وسق غلے سے کم میں زکاۃ نہیں ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2475]
💡 وضاحت:
۱؎: ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، اس طرح پانچ اوقیہ دو سو درہم ہوا، جو موجودہ وزن کے حساب سے پانچ سو پنچانوے گرام بنتا ہے۔ ۲؎: ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے، اس طرح پانچ وسق تین سو صاع کے برابر ہوا جو موجودہ وزن کے حساب سے چھ سو ترپن کیلو گرام بنتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2447 (صحیح)