سنن النسائي حدیث نمبر: 2466
Sunan an-Nasa'i 2466
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
15: بَابُ : إِعْطَاءِ السَّيِّدِ الْمَالَ بِغَيْرِ اخْتِيَارِ الْمُصَدِّقِ
باب: مالک کا خود زکاۃ نکال کر محصل زکاۃ کو دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، مِمَّا ذَكَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، قَالَ: وَقَالَ عُمَرُ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةٍ، فَقِيلَ: مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ، وَأَمَّا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا قَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتُدَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَمَّا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهِيَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ وَمِثْلُهَا مَعَهَا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کا حکم کیا ۔ تو آپ سے کہا گیا : ابن جمیل ، خالد بن ولید ، اور عباس بن عبدالمطلب ( رضی اللہ عنہم ) نے ( زکاۃ ) نہیں دی ہے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابن جمیل زکاۃ کا انکار اس وجہ سے کرتا ہے کہ وہ محتاج تھا تو اللہ تعالیٰ نے اسے مالدار بنا دیا ۔ اور رہے خالد بن ولید تو تم لوگ خالد پر زیادتی کر رہے ہو ، انہوں نے اپنی زرہیں اور اسباب اللہ کی راہ میں وقف کر دی ہیں ، اور رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس بن عبدالمطلب ، تو یہ زکاۃ تو ان پر ہے ہی ۔ مزید اتنا اور بھی دیں گے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2466]
💡 وضاحت:
۱؎: مسلم کی روایت کے الفاظ ہیں «فَھِیَ عَلَیَّ» اس کا مفہوم یہ ہے کہ رہے عباس رضی الله عنہ تو ان کی زکاۃ میرے ذمہ ہے اور اسی کے مثل اور، یعنی میں ان سے دو سال کی زکاۃ پہلے ہی لے چکا ہوں اس لیے اس کی ادائیگی میں کروں گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10670، 13915) (صحیح)