سنن النسائي حدیث نمبر: 2460
Sunan an-Nasa'i 2460
کتاب #27: کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
12: بَابُ : الْجَمْعِ بَيْنَ الْمُتَفَرِّقِ وَالتَّفْرِيقِ بَيْنَ الْمُجْتَمِعِ
باب: الگ الگ مال کو ملانے اور ملے ہوئے مال کو الگ الگ کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزَّرْقَاءِ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَاعِيًا فَأَتَى رَجُلًا فَآتَاهُ فَصِيلًا مَخْلُولًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَعَثْنَا مُصَدِّقَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنَّ فُلَانًا أَعْطَاهُ فَصِيلًا مَخْلُولًا اللَّهُمَّ لَا تُبَارِكْ فِيهِ، وَلَا فِي إِبِلِهِ" , فَبَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ، فَجَاءَ بِنَاقَةٍ حَسْنَاءَ فَقَالَ: أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِ وَفِي إِبِلِهِ".
وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو زکاۃ کی وصولی پر بھیجا ، وہ ایک شخص کے پاس آیا ، اس نے اسے اونٹ کا ایک دبلا بچہ دیا ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے محصل زکاۃ ( صدقہ وصول کرنے والے ) کو بھیجا ، فلاں شخص نے اسے ایک دبلا کمزور ، دودھ چھوڑا ہوا بچہ دیا ۔ اے اللہ ! تو اس میں اور اس کے اونٹوں میں برکت نہ دے “ ، یہ بات اس آدمی کو معلوم ہوئی تو وہ ایک اچھی اونٹنی لے کر آیا ، اور کہنے لگا : میں اللہ عزوجل سے توبہ کرتا ہوں اور اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی اطاعت کا اظہار کرتا ہوں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ ! تو اس میں اور اس کے اونٹوں میں برکت فرما “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 2460]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، الثوري عنعن (تقدم: 2266) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 340
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11785) (صحیح الإسناد)