سنن النسائي حدیث نمبر: 1785
Sunan an-Nasa'i 1785
کتاب #24: کتاب: تہجد (قیام اللیل) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل
61: بَابُ : مَنْ كَانَ لَهُ صَلاَةٌ بِاللَّيْلِ فَغَلَبَهُ عَلَيْهَا النَّوْمُ
باب: جسے رات میں تہجد پڑھنی ہو اور نیند اس پر غالب آ جائے اور نہ پڑھ سکے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ رَجُلٍ عِنْدَهُ رِضًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنَ امْرِئٍ تَكُونُ لَهُ صَلَاةٌ بِلَيْلٍ فَغَلَبَهُ عَلَيْهَا نَوْمٌ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ أَجْرَ صَلَاتِهِ , وَكَانَ نَوْمُهُ صَدَقَةً عَلَيْهِ".
سعید بن جبیر ایک ایسے شخص سے روایت کرتے ہیں جو ان کے نزدیک پسندیدہ ہے اس نے انہیں خبر دی کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو بھی آدمی رات کو تہجد پڑھا کرتا ہو ، پھر کسی دن نیند کی وجہ سے وہ نہ پڑھ سکے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی نماز کا اجر لکھ دیتا ہے ، اور اس کی نیند اس پر صدقہ ہوتی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1785]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 310 (1314)، (تحفة الأشراف: 16007)، موطا امام مالک/ صلاة اللیل 1 (1)، مسند احمد 6/63، 72، 180 (صحیح) (مبہم راوی کا نام آگے آ رہا ہے)