سنن النسائي حدیث نمبر: 1729
Sunan an-Nasa'i 1729
کتاب #24: کتاب: تہجد (قیام اللیل) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل
46: بَابُ : الْقِرَاءَةِ فِي الْوِتْرِ
باب: وتر میں قرأت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، أَنَّ أَبَا مُوسَى كَانَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَةً أَوْتَرَ بِهَا , فَقَرَأَ فِيهَا بِمِائَةِ آيَةٍ مِنَ النِّسَاءِ، ثُمّ قَالَ: مَا أَلَوْتُ أَنْ أَضَعَ قَدَمَيَّ حَيْثُ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَمَيْهِ وَأَنَا أَقْرَأُ بِمَا قَرَأَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابومجلز سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ اشعری مکہ اور مدینے کے درمیان تھے ، کہ انہوں نے عشاء کی نماز دو رکعت پڑھی ، پھر وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایک رکعت وتر پڑھی ، اس میں انہوں نے سورۃ نساء کی سو آیتیں پڑھیں ، پھر کہا : میں نے اپنے دونوں قدموں کو اس جگہ رکھنے میں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھے تھے ، اور ان آیتوں کے پڑھنے میں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی تھی کوئی کوتاہی نہیں کی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1729]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، فى سماع أبى مجلز من أبى موسي رضي اللّٰه عنه نظر،كما قال الحافظ ابن حجر العسقلاني (انظر نتائج الأفكار فى تخريج أحاديث الأذكار 1/ 263 مجلس 53) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 334
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9033)، مسند احمد 4/419 (صحیح)