سنن النسائي حدیث نمبر: 1721
Sunan an-Nasa'i 1721
کتاب #24: کتاب: تہجد (قیام اللیل) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل
43: بَابُ : كَيْفَ الْوِتْرُ بِتِسْعٍ
باب: نو رکعت وتر پڑھنے کی کیفیت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " كُنَّا نُعِدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ، فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَسْتَاكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ، وَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَدْعُو بَيْنَهُنَّ وَلَا يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا، ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ وَيَقْعُدُ، وَذَكَرَ كَلِمَةً نَحْوَهَا، وَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَدْعُو , ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا , ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار کر کے رکھ دیا کرتے تھے ، پھر جب اللہ تعالیٰ کو جگانا منظور ہوتا تورات میں آپ کو جگا دیتا ، آپ مسواک کرتے ( پھر ) وضو کرتے اور نو رکعتیں پڑھتے ، ان میں صرف آٹھویں رکعت پر بیٹھتے ، اور اللہ کی حمد کرتے ، اور اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز ( درود و رحمت ) بھیجتے ، اور ان کے درمیان دعائیں کرتے ، اور کوئی سلام نہ پھیرتے ، پھر نویں رکعات پڑھتے اور قعدہ کرتے ، راوی نے اس طرح کی کوئی بات ذکر کی کہ آپ اللہ کی حمد کرتے ، اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نماز ( درود و رحمت ) بھیجتے ، اور دعا کرتے ، پھر سلام پھیرتے جسے ہمیں سناتے ، پھر بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1721]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 1316 (صحیح)