سنن النسائي حدیث نمبر: 1717
Sunan an-Nasa'i 1717
کتاب #24: کتاب: تہجد (قیام اللیل) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل
41: بَابُ : كَيْفَ الْوِتْرُ بِخَمْسٍ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى الْحَكَمِ فِي حَدِيثِ الْوِتْرِ
باب: پانچ رکعت وتر کیسے پڑھی جائے؟ اور وتر کی حدیث کے سلسلے میں حکم سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، قال: " الْوِتْرُ سَبْعٌ فَلَا أَقَلَّ مِنْ خَمْسٍ" فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ , فَقَالَ: عَمَّنْ ذَكَرَهُ؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي قَالَ الْحَكَمُ: فَحَجَجْتُ فَلَقِيتُ مِقْسَمًا , فَقُلْتُ لَهُ: عَمَّنْ؟ قَالَ: عَنِ الثِّقَةِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَنْ مَيْمُونَةَ.
سفیان بن الحسین حکم سے روایت کرتے ہیں ، اور وہ مقسم سے ، مقسم کہتے ہیں کہ وتر سات رکعت ہے اور پانچ سے کم نہیں ، میں نے یہ بات ابراہیم سے ذکر کی ، تو انہوں نے کہا : انہوں نے اسے کس کے واسطہ سے ذکر کیا ہے ؟ تو میں نے کہا : مجھے نہیں معلوم ، حکم کہتے ہیں : پھر میں حج کو گیا تو میں نے مقسم سے ملاقات کی ، اور ان سے پوچھا کہ یہ بات آپ نے کس سے سنی ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ایک ثقہ شخص سے ۱؎ ، اور اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا اور میمونہ رضی اللہ عنہا سے سنی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1717]
💡 وضاحت:
۱؎: غالباً ثقہ شخص سے مراد ابن عباس رضی اللہ عنہم ہیں کیونکہ مقسم برابر انہیں سے چمٹے رہتے تھے، اور انہوں نے ولاء کی نسبت بھی انہیں کی طرف کی ہے، یا عن عائشہ وعن میمونہ ”عن الثقۃ“ سے بدل ہے ایسی صورت میں ترجمہ ہو گا ثقہ سے سنی ہے یعنی عائشہ اور میمونہ سے سنی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، الثقة: لم أعرفه. ومقطوع الحكم بن عتيبة صحيح. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 334
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17818)، مسند احمد 6/335 (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے)