سنن النسائي حدیث نمبر: 1667
Sunan an-Nasa'i 1667
کتاب #24: کتاب: تہجد (قیام اللیل) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل
26: بَابُ : كَيْفَ صَلاَةُ اللَّيْلِ
باب: تہجد کی نماز کیسے پڑھی جائے؟
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى" , قال أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدِي خَطَأٌ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے “ ۱؎ ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : میرے خیال میں اس حدیث میں غلطی ہوئی ہے ۲؎ واللہ اعلم ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1667]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نوافل دن ہو یا رات دو دو کر کے پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔ ۲؎: اس سے ان کی مراد «والنہار» کی زیادتی میں غلطی ہے، کچھ لوگوں نے اس زیادتی کو ضعیف قرار دیا ہے کیونکہ یہ زیادتی علی البارقی الازدی کے طریق سے مروی ہے، اور یہ ابن معین کے نزدیک ضعیف ہیں، لیکن ابن خزیمہ، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے، اور کہا ہے کہ اس کے رواۃ ثقہ ہیں اور مسلم نے علی البارقی سے حجت پکڑی ہے، اور ثقہ کی زیادتی مقبول ہوتی ہے، علامہ البانی نے بھی سلسلۃ الصحیحۃ میں اس کی تصحیح کی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 302 (1295)، سنن الترمذی/الصلاة 301 (الجمعة 65) (597)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 172 (1322)، (تحفة الأشراف: 7349)، مسند احمد 2/26، 51، سنن الدارمی/الصلاة 154 (1499) (صحیح)