سنن النسائي حدیث نمبر: 1663
Sunan an-Nasa'i 1663
کتاب #24: کتاب: تہجد (قیام اللیل) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل
23: بَابُ : كَيْفَ الْقِرَاءَةُ بِاللَّيْلِ
باب: رات میں قرأت کیسی ہو؟
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ، قال: سَأَلْتُ عَائِشَةَ" كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ يَجْهَرُ أَمْ يُسِرُّ؟ قَالَتْ: كُلُّ ذَلِكَ , قَدْ كَانَ يَفْعَلُ رُبَّمَا جَهَرَ وَرُبَّمَا أَسَرَّ".
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں کس طرح قرآت کرتے تھے ، جہری یا سری ؟ تو انہوں نے کہا : آپ ہر طرح سے پڑھتے ، کبھی جہراً پڑھتے ، اور کبھی سرّاً پڑھتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1663]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16286) وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 343 (1436)، سنن الترمذی/الصلاة 123 (449)، مسند احمد 6/149 (صحیح)