سنن النسائي حدیث نمبر: 1617
Sunan an-Nasa'i 1617
کتاب #24: کتاب: تہجد (قیام اللیل) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل
8: بَابُ : وَقْتِ الْقِيَامِ
باب: قیام اللیل (تہجد) کے وقت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَصْرِيُّ، عَنْ بِشْرٍ هُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قال: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: " أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: الدَّائِمُ , قُلْتُ: فَأَيُّ اللَّيْلِ كَانَ يَقُومُ؟ قَالَتْ: إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ".
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب کون سا عمل تھا ؟ تو انہوں نے کہا : جس عمل پر مداومت ہو ، میں نے پوچھا : رات میں آپ کب اٹھتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : جب مرغ کی بانگ سنتے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1617]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ عام معمول کی بات ہو گی، ورنہ خود عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ رات کے ہر حصے میں سوتے یا نماز پڑھتے پائے گئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/التھجد 7 (1132)، الرقاق 18 (6461)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (741)، سنن ابی داود/الصلاة 312 (1317)، (تحفة الأشراف: 17659)، مسند احمد 6/94، 110، 147، 203، 279 (صحیح)