سنن النسائي حدیث نمبر: 1612
Sunan an-Nasa'i 1612
کتاب #24: کتاب: تہجد (قیام اللیل) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل
5: بَابُ : التَّرْغِيبِ فِي قِيَامِ اللَّيْلِ
باب: قیام اللیل (تہجد) کی ترغیب کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيّ حَدَّثَهُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ , فَقَالَ: " أَلَا تُصَلُّونَ" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهَا بَعَثَهَا , فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ فَخِذَهُ , وَيَقُولُ: وَكَانَ الإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا سورة الكهف آية 54.
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور فاطمہ کو ( دروازہ کھٹکھٹا کر ) بیدار کیا ، اور فرمایا : ” کیا تم نماز نہیں پڑھو گے ؟ “ تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہماری جانیں تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں ، جب وہ انہیں اٹھانا چاہے گا اٹھا دے گا ، جب میں نے آپ سے یہ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پلٹ پڑے ، پھر میں نے آپ کو سنا ، آپ پیٹھ پھیر کر جا رہے تھے اور اپنی ران پر ( ہاتھ ) مار کر فرما رہے تھے : «وكان الإنسان أكثر شىء جدلا» ” انسان بہت حجتی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1612]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/التھجد 5 (1127)، تفسیر الکھف 1 (4724)، الاعتصام 18 (7347)، التوحید 31 (7465)، صحیح مسلم/المسافرین 28 (775)، (تحفة الأشراف: 10070)، مسند احمد 1/112 (صحیح)