سنن النسائي حدیث نمبر: 1316
Sunan an-Nasa'i 1316
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
67: بَابُ : أَقَلِّ مَا يُجْزِئُ مِنْ عَمَلِ الصَّلاَةِ
باب: نماز میں کم سے کم کتنا عمل کافی ہو گا؟
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ وَتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: " كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ , فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ , فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي ثَمَانِ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ , فَيَجْلِسُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا".
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : ام المؤمنین ! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں بتائیے ، تو انہوں نے کہا : ہم آپ کے ( تہجد کے ) لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ جب آپ کو رات میں بیدار کرنا چاہتا بیدار کر دیتا ، آپ اٹھ کر مسواک کرتے ، اور وضو کرتے ، اور آٹھ رکعتیں پڑھتے ۱؎ ، ان میں صرف آٹھویں رکعت میں بیٹھتے ، اللہ عزوجل کا ذکر کرتے ، اور دعائیں کرتے ، پھر اتنی اونچی آواز میں آپ سلام پھیرتے کہ ہمیں سنا دیتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1316]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ رواۃ میں سے کسی راوی کا وہم ہے جیسا کہ مؤلف آگے چل کر حدیث رقم ۱۶۰۲ میں اس پر تنبیہ کریں گے، صحیح ”نو رکعتیں“ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة 123 (1191)، (تحفة الأشراف: 16107)، مسند احمد 6/54، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 1721، 1722 (صحیح)