سنن النسائي حدیث نمبر: 1310
Sunan an-Nasa'i 1310
کتاب #17: کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل
64: بَابُ : نَوْعٌ آخَرُ
باب: ایک اور طرح کے تعوذ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ , وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ , وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ , اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ" , فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ , فَقَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ , وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دعا مانگتے : «اللہم إني أعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات اللہم إني أعوذ بك من المأثم والمغرم» ” اے اللہ ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے ، اور پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنہ سے ، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنہ سے ، اے اللہ ! میں تجھ سے گناہ اور قرض سے پناہ چاہتا ہوں “ تو کہنے والے نے آپ سے کہا : آپ قرض سے اتنا زیادہ کیوں پناہ مانگتے ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی جب مقروض ہوتا ہے تو بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے ، اور وعدہ کرتا ہے تو اس کے خلاف کرتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 1310]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 149 (832)، الاستقراض 10 (2397) مختصراً، صحیح مسلم/المساجد 25 (589)، سنن ابی داود/الصلاة 153 (880)، مسند احمد 6/89، 244، ویأتی عند المؤلف فی الاستعاذة (برقم: 5456) (صحیح)